Legend Muhammad Zeeshan Arshad

لیجنڈ آف اللہ

دشمنی سے نہیں ہوتا وہ قبر میں فنا
اپنے حکم سے زندگی جسے دیتا ہے خدا

وہ کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے (لیجنڈری قرآن 10.100)

غلبہ اسلام کے لیے پیغبراسلام محمد رسول اعظمﷺ کا حکم

تحریر: لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

Date: November 18, 2022

"کہہ دیجئے، کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں وه عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا جنہیں تم پہچان لو گے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے آپ کا رب غافل نہیں" (لیجنڈری قرآن، 27.93)

بے شک تمام تعریفوں کے لائق و حمد و ثناء صرف اللہ واحد القہار ورب ذوالجلال ہے جو اپنے بندے کی مدد، کفایت، حمایت، طاقت، روحانیت، بچاو، کانفیڈینس، صلاحیتوں، ہمتوں کو بڑھانے، علم کو سکھانے، راستے سے رکاوٹوں کو ہٹانے اور شیطان کو بھگانے کے لیے اکیلا ہی کافی ہے خواہ وہ تمام عالمین کے شیطانی لشکروں کے ساتھ ملکر اس کے بندے پر حملہ کردے مگر جب تک اللہ نہ چاہے کوئی اس کے بندے کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا چاہے وہ جتنا مرضی زور لگالے، اللہ اکبر

کائنات کے بادشاہ اور رب العالمین کے بہترین انسان، بندے اور آخری رسول محمد عربیﷺ نے مجھے خواب میں واضح حکم کردیا ہے کہ "غلبہ اسلام کے لیے جاو" اور میرے ساتھ پیش آنے والے تمام تر واقعات جو معجزات و کرامات سے تعلق رکھتے ہیں وہ غیرمعمولی ہیں اور صرف اللہ کے فضل اور اس کے حکم سے ظاہر ہوئے ہیں حالانکہ نہ کبھی میں نے ولایت کا دعوی کیا ہے اور نہ کبھی نبی ہونے کا مگر یہ کہ میں رب العالمین کا لیجنڈ ہوں اس میں مجھے کوئی شک نہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ اپنی گمراہی اور بدعقیدگی میں مبتلا بھٹک رہے ہیں اور حق کو قبول کرنے سے محروم ہیں

میں کائنات کے بادشاہ کی مدد سے آسمان و زمین کے لشکروں میں تصرفات کرکے ہمیشہ کے لیے پریکٹیکل طور پر اکیسویں صدی میں ثابت کرچکا ہوں کہ روئے زمین پر موجود تمام انسانوں اور جنات کے تمام باطل معبود جھوٹے، من گھڑت اور مصنوعی اور خیالی ہیں اور ان سب کی اللہ کے مقابلہ پر کوئی حقیقت نہیں ہے اور دنیا کے تمام غیرمسلم مذہبی و روحانی و سائنسی و جادوئی پیشواوں نے ملکر دنیا کے سات ارب انسانوں کو اللہ سے دھوکہ میں رکھا ہوا ہے خواہ وہ مسلمانوں کے دو نمبر مذہبی پیشوا ہوں یا غیرمسلموں کے دو نمبر مذہبی پیشوا ہوں

مسلمانوں کی اکثریت کو کسی بات کا ہوش نہیں کہ اسلام کو ختم کرنے کے لیے یہ خود غیرمسلموں کے کس طرح آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور کس طرح اپنے معاشرے میں ان کفار کی رسومات/عادات/خیالات/توہم پرستیوں اور بدعقیدگیوں کو پال رہے ہیں اور اسے پروان چڑھارہے ہیں اور آپس میں مل جل کر ایک دوسرے کوجہنم کی طرف گھسیٹ رہے ہیں اور اگر کوئی اللہ کا خوف رکھنے والا مسلم یا مسملہ ان کے چنگل سے نکلنا چاہے اور ان کے باطل معاشرتی کاموں کی مخالفت کرنا چاہے اور ان سے الگ راہ چلنا چاہے تو اسے گمراہ/پاگل/مجنوں/فاسق/منافق/جاہل/بھٹکا ہوا جیسے الفاظ سے نوازا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے اس کی ذات اور خیالات اور کاموں کے بارے میں شک میں ڈالنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جاتی ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے بھٹک جائے اور ان کی گمراہی میں ان کا ساتھ دے جسے یہ اسلام کا نام دیتے ہیں حالانکہ یہ اکثر لوگ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں یہ خود اسلام سے جاہل اور انتہائی پرلے درجے کی گمراہی میں جی رہے ہیں جن کا مقصد صرف کھانا پینا سونا، ہمبستری، آپس میں پارٹی، ہلاگلا، ڈسکو ڈانس، مجرے، شو آف، گالی گلوچ، برائیاں کرنا اور دیگر بہت سے کاموں میں ملوث رہ کر اللہ کا مجرم بن کر زندگی گزارنا ایک عام روٹین بن چکا ہے۔

ایسے میں غلبہ السلام کے مشن پر کام کے لیے ایک سچا اور مخلص مسلم خود کو صرف اکیلا اور تنہا پاتا ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ ماضی میں اللہ کے انبیاء کرام کو بھی ایسے ہی لوگوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے جو ان کا مذاق اڑاتے تھے، ان کو گالیاں دیتے تھے، ان پر ظلم کرتے تھے، ان کو مارتے پیٹتے تھے، ان پر جسمانی/ذہنی/روحانی/جادوئی/سیاسی و دیگر ہر طرح کا تشدد اور دباو رکھتے تھے تاکہ ان کو ان کے مشن سے روکا جاسکے اور جب اتنا بھی بس نہیں چلتا تھا تو انہیں قتل تک کردیا کرتے تھے اور اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے تھے۔

غلبہ اسلام کے حوالے سے مسلمانوں کی اکثریت انتہائی کاہلی/سستی/لاپرواہی/کم عقلی کا شکار ہے اور مایوسی ان کے دل و دماغ پر چھائی پڑی ہے کیونکہ ان کے علمائے سو نے انہیں کہانیوں کے سہارے ایسے سلادیا ہے جیسے کوئی نشہ کرنے والا بھنگ پی کر سوجاتا ہے

ایسے میں جہاں مقابلہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے، عالمی معاشی طاقتوں کو ٹکر دینے، کتابوں کے سہارے غیرمسلموں سے بحث مباحثہ کرنے، سوشل میڈیا پر ویڈیوزکے ذریعہ یوٹیوب چینل چلانے، فیس بک پیچجز پر علما کے چلانے، ٹی وی چینلز پر لایعنی موضوعات پر گرما گرم بحث کرنے پر ہورہا ہے وہاں بہت ہی کم مسلمانوں کو یہ توقیق ملی ہے کہ وہ بغیر کتابوں کے صرف نیچر کے ذریعہ دعوت و تبلیغ یعنی غلبہ اسلام کے حقیقی کام کی طرف توجہ کرسکیں اور اس میں پھر اس لیول پر آکر کلام کرنا اور چیلنج کرنا کہ معجزات کے ذریعہ دعوت اور روحانی طاقتوں کے ذریعہ اسلام غالب کرنا؟ یہ کام کرنے میں اس وقت روئے زمین پر بمشکل ایک فیصد سے بھی کم مسلمان ہوں گے کیونکہ میرے علم میں ایسے کروڑوں مسلمان تو بہت دور مشکل سے ۱۰۰ مسلمان بھی نہیں بلکہ اگر مغالطہ نہ کروں تو ۱۰ مسلمان بھی فہرست میں شامل نہیں سوائے ایک مولانا ابرار عالم کے جو اس وقت اس مقام پر ہیں کہ مردوں کو اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کرنے پر کام کررہے ہیں حالانکہ وہ حضرت محمدﷺ کے ایک امتی، عالم دین، عامل کامل اور وقت کے ولی اللہ ہیں جنہیں اکثر لوگ نہ جانتے ہیں اور نہ ہی پہچانتے ہیں مگر یہ کہ اللہ ہی کی تبدیر سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی مگر تب تک مزید دیر ہوچکی ہوگی

بہرحال فی الحال میں مردے زندہ کرنے کے لیے لیجنڈری بزنس سروس آفر کررہا ہوں جس کے تحت کسی بھی ۳۵ سال سے کم عمر مردے کو دوبارہ اللہ کے حکم سے زندہ کروانے کے لیے مدد لی جاسکتی ہے اور اگر کسی کا بچہ دوران پیدائش ماں کے پیٹ سے باہر آنے کے بعد آئی سی یو روم میں مرگیا ہو یا اس کی ماں کا انتقال ہوجائے اور تدفین نہ کی گئی ہو تو فوری طور پر اس سروس کے لیے رابطہ کیا جاسکتا ہے تاکہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اللہ کے حکم سے دوبارہ نئی زندگی دلوانے کے لیے مولانا ابرار عالم صاحب کے تعاون سے شروع کردہ اس لیجنڈری ریسریکشن سروس کے ذریعہ اپنے بزنس کلائنٹس کی مدد کرسکوں

شک کرنے والے محروم رہ جاتے ہیں
کوشش کرنے والے حاصل کرجاتے ہیں

بے شک یہ بھی غلبہ اسلام کے لیے ایک کھلی نشانی ہے اگر کوئی اپنی عقل سے کام لے کیونکہ مردے کو زندہ کرنا صرف اللہ کے حکم سے ممکن ہے اور کوئی کافر/غیرمسلم/جادوگر اپنے تمام باطل معبودوں کی مدد سے کبھی بھی مردے زندہ کرنے کی ایسی سروس قیامات تک پیش نہیں کرسکتا

کیا غلبہ اسلام کے لیے اتنا کافی نہیں عقل والوں کے لیے؟


Rightful Religion | Legendary Freelancer
Copyright © 2011 - 2022 All rights reserved.