Legend Muhammad Zeeshan Arshad

لیجنڈ آف اللہ

دشمنی سے نہیں ہوتا وہ قبر میں فنا
اپنے حکم سے زندگی جسے دیتا ہے خدا

وہ کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے (لیجنڈری قرآن 10.100)

جنت الفردوس میں جانے کا تکبر

تحریر: لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

Date: May 28, 2017

ایک  نااہل، نکما اور نافرمان طالب علم بغیر امتحان گاہ میں پیپر دیے اگراپنے استاد سے کہے کہ مجھے امتحان میں پاس کردینا تو کیا ایسا مطالبہ کرنا درست ہوگا؟اور اگر ٹاپ پوزیشن لینے کی ڈیمانڈ کرے تو کیا یہ بے شرمی میں شمار نہیں کیا جائے؟

اگر طالب علم نے محنت کی ہوتی، کوشش کی ہوتی اور پیپر دیا ہوتا پھر کچھ غلطیوں کے سبب نمبرز کم آجاتے تو استاد سے پاس ہونے کی درخواست کرنا مناسب بھی ہوتا لیکن بغیر کوشش اور محنت ایسا مطالبہ کرنا حماقت ہے۔

بالکل اسی طرح ایک مسلمان جس نے ساری زندگی اللہ کا کہنا نہ مانا، اپنی من مانی زندگی گزارتا رہا، نافرمانیاں کرتا رہا اور اس کے حبیب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے چھوڑ ے رکھے، اور پھر وہ اللہ سے یہ مطالبہ کرے کہ اسے دنیا کی تمام اعلی نعمتیں اور جنت میں اعلی ترین مقامات عطا کرے تو کیا یہ ایسی حرکت کرنا درست ہوگی؟

 ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوتا، اللہ سے معافی طلب کرتا، عاجزی کرتا اور اپنی زندگی سدھارنے کی کوشش شروع کرتا اور خود کو اچھا اور باعمل مسلم بناکر رہنے کی کوشش کرتا اور ساتھ نعمتوں کی دعائیں کرتا تو بات سمجھ آتی ہے  لیکن بغیر توبہ استغفار کیے محض تکبر کے ساتھ اپنی من مانیاں کرتے رہنا اور جنت کے اعلی درجات کی خواہش رکھنا جسے اللہ نے ان لوگوں کے رکھا ہے جو ساری زندگی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرتے رہے اور جہاد کرتے رہے؟ یقینا اللہ بے انصانی نہیں کرتا۔

ہمیں چاہیے کہ اپنی اب تک کی گزاری ہوئی زندگی پر غور کریں اور اپنی دعاوں پر بھی غور کریں۔ اللہ سے بے شک ہم جو مرضی دعائیں مانگ لیں مگر نافرمان ہوتے ہوئے تکبرانہ طور پر اپنے لیے جنت الفردوس مانگنا ؟

یہ جنت الفردوس میں جانے کا تکبر نہیں تو اور کیا ہے؟   انتہائی افسوس کی بات ہے۔


Rightful Religion | Legendary Freelancer
Copyright © 2011 - 2022 All rights reserved.